2 مارچ 2012 - 20:30

اسلام آباد دہشتگردی کے خاتمے، انتہا پسندوں کی پشت پناہی کرنے والی قوتوں کی حوصلہ شکنی کرنے اور افغانستان میں قیام امن کی کوششیں کرنے میں نہ صرف امریکہ کے ساتھ ہے بلکہ اپنی بساط سے بڑھ کر کام کر رہا ہے۔ لیکن اپنی معیشت کو بہتر بنانے والے اقدامات کو پس پشت ڈالنا ایسا ہی ہے جیسے انتہائی نگہداشت کے مریض کو آکسیجن سے محروم کر دیا جائے۔ یہ بات بھی مدنظر رکھنے کی ہے کہ پاکستان اور ایران نہ صرف جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں بلکہ دیرینہ مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں بھی جڑے ہوئے ہیں۔ کرہٴ ارض کے دوسری سمت سے آنے والے امریکی دوستوں کو خطے سے جلد یا بدیر واپس چلے جانا ہے۔ مگر اس خطے کے ممالک کو ایک ساتھ یہیں رہنا ہے۔

ابنا: امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے اس بیان نے کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ مجوزہ گیس پائپ لائن منصوبے پر عمل کیا تو اسے بھی واشنگٹن کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، اسلام آباد اور واشنگٹن کے پہلے سے پیچیدہ تعلقات کو ایک نئی مشکل سے دوچار کر دیا ہے۔

پاکستانی عوام وعدہ شکنیوں کی ایک طویل فہرست کے علاوہ بلیک واٹر کی سرگرمیوں، ریمنڈ ڈیوس جیسے جاسوس کی دیدہ دلیری، بستیوں پر ڈرون حملوں، 2مئی کے ایبٹ آباد آپریشن اور 26 نومبر 2011ء کے سلالہ چیک پوسٹ پر حملے جیسے واقعات پر پہلے ہی دل گرفتہ ہیں۔ اب ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ امریکی کانگریس کی کمیٹی میں دیئے گئے مذکورہ بیان کو دوستی، محبت اور خیر خواہی کے کس خانے میں رکھیں۔

پاک ایران گیس پائپ لائن پروجیکٹ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مسز ہلیری کلنٹن نے اس بات کو سمجھ سے بالاتر قرار دیا کہ امریکہ ایران پر پابندیاں لگائے اور پاکستان اس سے معاہدہ کر لے۔

سادہ لفظوں میں اس بیان کا اس کے سوا کوئی مفہوم نہیں نکلتا کہ پاکستان کو اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ اپنے پڑوسی ملک سے تیل یا گیس حاصل کر سکے۔ جبکہ واشنگٹن اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان کو توانائی کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔

چند برس قبل نئی دہلی نے بھی اسی قسم کی ضروریات کے لئے تہران کے ساتھ پائپ لائن منصوبے میں شمولیت اختیار کی تھی مگر اسے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی سمیت توانائی کی ضرورتیں پوری کرنے کے وسیع ذرائع اور اقتصادی معاونت فراہم کرکے اس سے بے نیاز کر دیا گیا۔

پاکستان کا ایندھن اور بجلی کا بحران اتنا شدید ہے کہ صنعتوں کو غیرمعمولی نقصان پہنچ چکا ہے، زراعت تک پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، کاروبار تباہ ہو چکے ہیں، سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے، بیروزگاری بڑھنے کے باعث جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اور بہت سے والدین اپنے بچے تک بیچنے پر مجبور ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث کوئی دن نہیں جاتا جب گھریلو صارفین سڑکوں پر آکر احتجاج نہ کرتے ہوں۔ پیٹرول اور سی این جی کی قیمتیں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ متوسط طبقے کے لئے بھی اس کے اثرات برداشت کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

ایسے حالات میں اسلام آباد کو اپنی معاشی بقا اور پریشان حال عوام کو فوری ریلیف دینے کے جو محدود راستے نظر آ رہے ہیں ان میں بھارت اور ایران جیسے ہمسایہ ممالک سے تجارتی تعلقات بڑھانا بھی شامل ہیں۔ نئی دہلی سے تجارت بڑھانے کے سلسلے میں ایک اہم پیشرفت بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا فیصلہ ہے، جس کے نتیجے میں ایک ہزار 209 تجارتی اشیاء کی منفی فہرست 31 دسمبر تک ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد دونوں ملکوں میں آزادانہ تجارت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اس طرح باہمی ضرورت کی بہت سی چیزوں کی ایک دوسرے کو جلد اور آسانی سے ترسیل ممکن ہو جائے گی۔ اسلام آباد اسی نوع کے روابط تہران سے بھی رکھنا چاہتا ہے۔

جس وقت تہران کی ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے امریکہ اور مغرب کے تحفظات سامنے آئے، پاکستان کی طرف سے اسی وقت واضح کر دیا گیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کا حصہ نہیں بنے گا۔

پچھلے مہینے اسلام آباد میں سہ فریقی سربراہ کانفرنس کے انعقاد اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی اس میں شرکت کے ذریعے بھی یہی پیغام دیا گیا تھا۔ اب جبکہ تہران کی طرف سے اسلام آباد کو یومیہ 80 ہزار بیرل تیل کریڈٹ پر دینے اور ایرانی سرحد سے گیس پائپ لائن بچھانے میں مدد دینے کے لئے 25 کروڑ ڈالر قرضہ کی پیش کش کی گئی ہے تو مسائل اور مشکلات میں گھرے ہوئے پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنی معیشت کے لئے فراہم کی جانے والی آکسیجن کی نلکی کو خود ہی اپنے سے دور کر دے اور ترکمانستان سے افغانستان اور پاکستان کے راستے بھارت تک بچھائی جانے والی پائپ لائن کا انتظار کرے۔ اسلام آباد اس منصوبے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ مگر اس کے لئے طویل عرصہ درکار ہے جبکہ اس پر عمل درآمد کے لئے افغانستان میں حالات کا معمول پر آنا بھی ضروری ہے۔ اسلام آباد دہشتگردی کے خاتمے، انتہا پسندوں کی پشت پناہی کرنے والی قوتوں کی حوصلہ شکنی کرنے اور افغانستان میں قیام امن کی کوششیں کرنے میں نہ صرف امریکہ کے ساتھ ہے بلکہ اپنی بساط سے بڑھ کر کام کر رہا ہے۔ لیکن اپنی معیشت کو بہتر بنانے والے اقدامات کو پس پشت ڈالنا ایسا ہی ہے جیسے انتہائی نگہداشت کے مریض کو آکسیجن سے محروم کر دیا جائے۔ یہ بات بھی مدنظر رکھنے کی ہے کہ پاکستان اور ایران نہ صرف جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں بلکہ دیرینہ مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں بھی جڑے ہوئے ہیں۔ کرہٴ ارض کے دوسری سمت سے آنے والے امریکی دوستوں کو خطے سے جلد یا بدیر واپس چلے جانا ہے۔ مگر اس خطے کے ممالک کو ایک ساتھ یہیں رہنا ہے۔ امریکہ افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت سے اچھے تعلقات کے لئے ہمسائیگی کی جو دلیل پیش کرتا ہے، اسے ایران کے معاملے میں نظرانداز کر دیتا ہے۔ اسرائیل کے لئے اپنے دوست مسلم ممالک کے جذبات کو نظرانداز کرنے والا ملک، اسلام آباد سے ایسے مطالبات کر رہا ہے جو کسی بھی ملک کی آزادی و خودمختاری کے تقاضوں سے ذرا مطابقت نہیں رکھتے۔ اس طرز عمل سے ان پاکستانیوں کے شکوک میں اضافہ ہو گا، جو بعض امریکی پالیسیوں کو پہلے ہی شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ واشنگٹن یکطرفہ ہدایات دینے اور ڈرانے دھمکانے کی حکمت عملی کی بجائے پاکستان کی مشکلات کا ادراک کرے اور مسائل کی دلدل سے نکلنے میں اس کی مدد نہیں کر سکتا تو ان کوششوں میں حارج نہ ہو جو پاکستانی حکومت اور عوام کر رہے ہیں۔ ہماری سیاسی و عسکری قیادتیں اور سفارت کار کھلے ذہن کے مالک ہیں اور بین الاقوامی امور کو سمجھتے ہیں۔ انہیں واشنگٹن کو قائل کرنا چاہئے کہ وہ ساڑھے چھ عشروں سے امریکہ کا ساتھ دینے والے ملک کے حوالے سے درست اور حقیقت پر مبنی نقطہ نظر اختیار کرے۔ ملکوں کے باہمی تعلقات میں سرد و گرم کیفیات آتی رہتی ہیں لیکن تلخیوں کو بہت زیادہ بڑھانا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوتا۔ .......

/169